امریکا جنگ خاتمے سے متعلق ایرانی تجویز سے ناخوش
تجویز میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق واضح بات نہیں کی گئی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو ماہ سے جاری جنگ کے حل سے متعلق ملنے والی تازہ ترین ایرانی تجویز سے ناخوش ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایران کی جانب سے ملنے والی جنگ بندی کی تجویز تنازعے کے حل کی امیدوں کو کم کر رہی ہے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران کی تازہ ترین تجویز میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق واضح بات نہیں کی گئی اور یہ اْس وقت کا معطل رہے گا جب تک کہ جنگ ختم نہیں ہو جاتی ہے اور خلیج سے جہاز رانی کے تنازعات حل نہیں ہو جاتے۔
امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ٹرمپ ایران کی تجویز سے ناخوش ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ جوہری معاملات کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے بھی کہا کہ امریکا اپنی ریڈلائنز کے بارے میں واضح ہے کیونکہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر نے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ سفارتی رابطوں میں امریکا کی طرف سے بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا گیا جسے انہوں نے ‘‘اہم پیشرفت’’ قرار دیا۔
انہوںنے کہاکہ ایران ہمیشہ باعزت اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کیلئے تیار ہے۔دوسری جانب امریکی حکام نے اس دعوے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ماضی میں امریکا یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں سرگرمیوں پر بات چیت کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔
تجزیہ کاروں نے کہا کہ ایسے بیانات اکثر سفارتی دباؤ بڑھانے یا اپنی پوزیشن مضبوط دکھانے کیلئے بھی دیے جاتے ہیں، خاص طور پر جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوں۔مزید پیشرفت کیلئے دونوں جانب سے باضابطہ بیانات اور سفارتی اقدامات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔




