World
Trending

لبنان میں کشیدگی برقرار، حزب اللہ نے اسرائیل سے مذاکرات کیلئے 5 بڑی شرائط رکھ دیں

حزب اللہ کی مزاحمتی قوت نہ صرف برقرار ہے بلکہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے، سربراہ قاسم نعیم

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے جہاں لبنان اور اسرائیل کے درمیان حالات نازک رخ اختیار کر چکے ہیں، اور اس تناظر میں حزب اللہ کی جانب سے ممکنہ مذاکرات کے لیے پانچ اہم شرائط سامنے آنے کی خبریں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، کیونکہ یہ تنظیم نہ صرف لبنان کی داخلی سیاست میں اثر و رسوخ رکھتی ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے، اطلاعات کے مطابق حزب اللہ نے سب سے پہلی شرط یہ رکھی ہے کہ اسرائیلی افواج فوری طور پر متنازع سرحدی علاقوں، خصوصاً جنوبی لبنان کے قریب موجود پوزیشنز سے مکمل انخلا کریں، کیونکہ ان علاقوں میں فوجی موجودگی کو لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے، دوسری اہم شرط لبنانی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہے، کیونکہ اسرائیلی ڈرونز اور جنگی طیاروں کی پروازیں حزب اللہ اور لبنانی حکومت دونوں کے لیے ایک مستقل تشویش بنی ہوئی ہیں، تیسری شرط کے طور پر قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے جس میں دونوں جانب زیرِ حراست افراد کی رہائی کو مذاکرات کی بنیاد بنانے کی بات کی گئی ہے، چوتھی شرط میں یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا سرحدی جارحیت سے گریز کی واضح ضمانت دی جائے تاکہ ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے، جبکہ پانچویں اور آخری شرط کے طور پر بین الاقوامی سطح پر لبنان کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کو تسلیم کرنے اور اس کی نگرانی کے لیے کسی تیسرے فریق، مثلاً اقوام متحدہ یا دیگر عالمی طاقتوں کی شمولیت کی بات کی جا رہی ہے، ان شرائط کے پس منظر میں خطے کی پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کارفرما ہے جہاں ایک جانب لبنان کو اندرونی معاشی اور سیاسی بحرانوں کا سامنا ہے تو دوسری جانب اسرائیل اپنی سکیورٹی کو لاحق خطرات کے پیش نظر سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے، ماہرین کے مطابق اگرچہ ان شرائط پر فوری اتفاق رائے مشکل دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریق کم از کم کسی نہ کسی سطح پر بات چیت کے امکانات کو رد نہیں کر رہے، جو کہ ایک مثبت اشارہ سمجھا جا سکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں اس کے اثرات نہ صرف لبنان اور اسرائیل بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی مختلف تنازعات اور جغرافیائی سیاسی کشمکش کا شکار ہے، یہی وجہ ہے کہ سفارتی کوششیں تیز کرنے اور کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ایک ممکنہ جنگ کو روکا جا سکے اور خطے میں استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button