پاکستان کا دورہ نہایت مفید رہا، حالات و واقعات کا جائزہ لیا گیا: عراقچی
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان کا حالیہ دورہ بھی نہایت مفید رہا ہے، آج پیوٹن سے ملاقات میں جنگ کی تازہ صورتحال اور حالیہ پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا حالیہ دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی روابط اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، اس دورے کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن و استحکام، سکیورٹی چیلنجز، اور اقتصادی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، اپنے بیان میں عباس عراقچی نے اس دورے کو نہایت مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی قیادت کے ساتھ خطے میں جاری حالات و واقعات کا گہرائی سے جائزہ لیا، خاص طور پر سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات، اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے جیسے امور پر توجہ مرکوز کی گئی،
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات محض ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ یہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں پر مبنی ہیں، جنہیں موجودہ حالات میں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرحدی علاقوں میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی، اسمگلنگ یا دہشت گردی کو مؤثر طریقے سے روکا جا سکے، ذرائع کے مطابق اس موقع پر وزارتِ خارجہ پاکستان کے اعلیٰ حکام بھی ملاقاتوں میں شریک تھے، جہاں باہمی دلچسپی کے امور پر کھل کر بات چیت کی گئی، اس کے علاوہ اقتصادی میدان میں تعاون کو فروغ دینے پر بھی خاص توجہ دی گئی، جس میں دوطرفہ تجارت میں اضافہ، سرحدی منڈیوں کی بحالی، اور توانائی کے منصوبوں جیسے گیس پائپ لائن اور بجلی کی فراہمی کے امکانات پر غور شامل تھا، عباس عراقچی نے اس بات کی نشاندہی کی کہ خطے کو درپیش چیلنجز، جیسے سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات، مشترکہ کوششوں کے بغیر حل نہیں ہو سکتے، اس لیے ایران پاکستان کے ساتھ قریبی رابطہ اور تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے، انہوں نے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور اس کی کوششیں نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی اہم ہیں، اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کو مسترد کریں گے، مزید برآں سفارتی سطح پر روابط کو مزید فعال بنانے، اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے کو جاری رکھنے، اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا، مبصرین کے مطابق یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا دونوں ہی کئی اہم تبدیلیوں سے گزر رہے ہیں، اس لیے ایران اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ پورے خطے میں استحکام کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے، آخر میں عباس عراقچی نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس دورے کے نتائج مستقبل میں عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آئیں گے اور دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو ایک نئی بلندی تک لے جائیں گے۔




