عوامی و نجی اشتراک کے ذریعے آنکھوں کے علاج تک رسائی میں اضافہ
آسٹریلیا کو پاکستان کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے: آسٹریلوی ہائی کمشنر مسٹر ٹموتھی کین

موضوع: آسٹریلیا اور پاکستان کی شراکت داری: کالج آف آپتھلمولوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز (COAVS) کے تعاون سے اندھے پن میں کمی اور عوامی و نجی اشتراک کے ذریعے آنکھوں کے علاج تک رسائی میں اضافہ
لاہور: پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر مسٹر ٹموتھی کین نے کالج آف آپتھلمولوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز (COAVS)، کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی/میو ہسپتال لاہور کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد آنکھوں کی صحت کے شعبے میں آسٹریلیا کے دیرینہ تعاون کے اثرات کا خود مشاہدہ کرنا تھا۔ انہوں نے یونیورسٹی اور میو ہسپتال میں آسٹریلوی تعاون سے چلنے والی طبی، تدریسی اور تربیتی سہولیات کا معائنہ بھی کیا۔
دورے کے دوران وائس چانسلر کے ای ایم یو پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز، پرنسپل COAVS پروفیسر محمد معین، پروفیسر ایمریٹس اور صوبائی کوآرڈینیٹر برائے انسدادِ اندھا پن پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم خان، رجسٹرار کے ای ایم یو پروفیسر اصغر نقی، پروفیسر آف سرجری ابرار اشرف، چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر شعیب نبی، پروفیسر آف سائیکاٹری علی مدیح ہاشمی، پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر عمران، کنٹری منیجر فریڈ ہولو فاؤنڈیشن جناب فاروق اعوان اور فیکلٹی ممبران نے آسٹریلوی ہائی کمشنر مسٹر ٹموتھی کین کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔
یہ دورہ آسٹریلوی حکومت اور ‘دی فریڈ ہولو فاؤنڈیشن’ (FHF) اور کالج آف آفتھلمولوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز کے درمیان شراکت داری کو اجاگر کرتا ہے، جو وفاقی اور صوبائی محکمہ صحت اور سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں قابلِ علاج اندھے پن کی روک تھام اور آنکھوں کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
1998 سے جاری اس شراکت داری کی بدولت پاکستان میں اندھے پن کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، جو 1990 کی دہائی میں تقریباً 1.8 فیصد سے کم ہو کر آج 0.5 فیصد رہ گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لاکھوں لوگوں کی بینائی بچائی گئی۔ اس عرصے کے دوران تقریباً 60 لاکھ افراد نے فریڈ ہولو فاؤنڈیشن اور کالج آف آفتھلمولوجی اینڈ الائیڈ ویژن سائنسز کے تعاون سے چلنے والے پروگراموں سے استفادہ کیا۔ 2024 سے اب تک کے نمایاں نتائج مندرجہ ذیل ہیں:
20 لاکھ سے زائد افراد کا معائنہ کیا گیا۔
30,000 سے زائد موتیے کے کامیاب آپریشنز۔
ذیابیطس کے باعث متاثر ہونے والی بینائی (Diabetic Retinopathy) کے ہزاروں مریضوں کا علاج۔
66,000 سے زائد نظر کے چشموں کی فراہمی۔
7,500 سے زائد طبی ماہرین اور کمیونٹی ورکرز کی تربیت۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر مسٹر ٹموتھی کین نے کہا آسٹریلیا کو پاکستان کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے جس کا مقصد قابلِ علاج اندھے پن کو کم کرنا اور معیاری علاج تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔ یہ طویل المدتی تعاون بینائی کی بحالی، زندگیوں میں بہتری اور صحت کے ایسے مضبوط نظام کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے جس سے ملک بھر کی کمیونٹیز مستفید ہو رہی ہیں۔
فاروق اعوان، کنٹری منیجر فریڈ ہولو فاؤنڈیشن پاکستان نے کہا: گزشتہ 27 سالوں سے حکومت اور ہسپتالوں کے ساتھ ہماری شراکت داری آسٹریلوی تعاون سے ممکن ہوئی— جس کی بدولت آنکھوں کی دیکھ بھال کی سہولیات کو عام آدمی کی دہلیز تک پہنچایا ہے۔ ہم مل کر ایسی پائیدار حکمت عملی تیار کر رہے ہیں جو صحت اور معاش کے مواقع کو خواتین اور پسماندہ طبقات کے لیے بہتر بناتی ہیں ۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد معین، پرنسپل COAVS اور چیئرمین آئی ڈیپارٹمنٹ KEMU نے کہا کالج آف آفتھلمولوجی اینڈ الائیڈ وژن سائنسز میں جدید ترین طبی سہولیات اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی میں آسٹریلوی تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ہماری مشترکہ کوششوں کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی شخص صرف اس لیے اپنی بینائی سے محروم نہ ہو جائے کہ وہ علاج کی استطاعت نہیں رکھتا۔
پروفیسر اسد اسلم خان، صوبائی کوآرڈینیٹر برائے انسدادِ اندھا پن پنجاب نے کہا پنجاب میں اندھے پن کے خلاف ہماری مہم میں آسٹریلوی حکومت اور فریڈ ہولو فاؤنڈیشن کا کردار مثالی رہا ہے۔ ان منصوبوں کی بدولت ہمیں نچلی سطح پر سسٹم کو مضبوط کرنے اور دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں بے پناہ مدد ملی جس کی وجہ سے ہم تدارک برائے نا بینا پن کے لیے موثر انداز سے اقدامات سر انجام دے رہے ہیں۔
پروفیسر محمود ایاز، وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے کہا کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی اور میو ہسپتال میں آسٹریلوی تعاون سے قائم انفراسٹرکچر کے باعث ہم نہ صرف مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں بلکہ شعبہ امراض چشم میں تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے نئے راستے بھی کھول رہا ہے۔ ہم اس تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہش مند ہیں۔




