دہائیوں پر محیط خدمات کے باوجود کئی سینئر فنکار صدارتی اعزاز سے محروم
شوبز کے نامور اداکاروں اور گلوکاروں کی حکومتی سطح پر عدم پذیرائی پر سوالات، جاوید اختر، شہزاد رضا سمیت متعدد شخصیات تاحال ایوارڈ کی منتظر
لاہور: پاکستان شوبز انڈسٹری سے وابستہ کئی ایسے سینئر فنکار اور گلوکار، جنہوں نے اپنی زندگیاں فن و ثقافت کے فروغ کے لیے وقف کر دیں، آج بھی صدارتی اعزازات سے محروم ہیں۔ پانچ دہائیوں سے زائد عرصے تک مسلسل خدمات انجام دینے کے باوجود ان فنکاروں کو حکومتی سطح پر وہ پذیرائی نہیں مل سکی جس کے وہ بلاشبہ مستحق ہیں، جس پر شوبز حلقوں میں تشویش اور سوالات جنم لے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گلوکار جاوید اختر گزشتہ سات دہائیوں سے موسیقی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور انہوں نے اپنی منفرد آواز اور فنی خدمات کے ذریعے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ اس طویل اور بھرپور کیریئر کے باوجود انہیں اب تک کسی بڑے صدارتی ایوارڈ سے نہیں نوازا گیا، جو کہ فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد کے لیے ایک اہم اعزاز تصور کیا جاتا ہے۔
اسی طرح سینئر اداکار شہزاد رضا بھی گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے سے ڈرامہ اور اسٹیج کے شعبے میں سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران متعدد یادگار کردار ادا کیے اور ان کی فنی خدمات کو ناظرین نے ہمیشہ سراہا، مگر حکومتی سطح پر انہیں بھی وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حق دار ہیں۔ شوبز سے وابستہ مختلف حلقوں کی جانب سے بارہا مطالبہ کیا گیا کہ شہزاد رضا کو صدارتی ایوارڈ کے لیے زیر غور لایا جائے، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
سینئر اداکار انعام خان کا شمار بھی ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصہ شوبز انڈسٹری کو دیا۔ انہوں نے اپنے جاندار کرداروں اور منفرد اداکاری کے ذریعے انڈسٹری میں ایک الگ پہچان بنائی، مگر بدقسمتی سے وہ بھی حکومتی اعزاز سے محروم ہیں۔ اسی طرح اداکار اسلم شیخ اور معروف اداکارہ شگفتہ اعجاز بھی ان فنکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے طویل عرصہ شوبز میں خدمات انجام دیں، لیکن انہیں صدارتی ایوارڈز کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔
شوبز حلقوں کا کہنا ہے کہ صدارتی ایوارڈز صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ فنکاروں کی محنت، لگن اور خدمات کا اعتراف ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان سینئر فنکاروں کو نظر انداز کرنا نہ صرف ان کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے بلکہ یہ مجموعی طور پر فن و ثقافت کے شعبے کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ایوارڈز کے انتخاب کے عمل کو مزید شفاف اور میرٹ پر مبنی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ حقیقی معنوں میں مستحق افراد کو ان کا حق دیا جا سکے۔
فنکاروں اور شوبز سے وابستہ افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان سینئر شخصیات کی خدمات کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور انہیں قومی سطح پر وہ مقام دے جس کے وہ برسوں سے مستحق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف فنکاروں کی حوصلہ افزائی کریں گے بلکہ نئی نسل کو بھی اس شعبے میں محنت اور لگن سے کام کرنے کا حوصلہ ملے گا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کسی بھی معاشرے کی ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنے میں فنکاروں کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان کی خدمات کا بروقت اعتراف کیا جائے تاکہ وہ خود کو معاشرے کا ایک قابلِ قدر حصہ محسوس کر سکیں۔




