مومو کے کردار کی مقبولیت نے شناخت محدود کر دی: حنا دلپذیر
متعدد کرداروں کے باوجود ناظرین “بلبلے” کی مومو سے ہی پہچانتے ہیں، سنجیدہ کرداروں کی خواہش ہے
لاہور: پاکستان کی معروف اور سینئر اداکارہ حنا دلپذیر نے حالیہ انٹرویو میں اپنی فنی زندگی، کرداروں کے انتخاب اور بطور اداکارہ اپنی شناخت کے حوالے سے کھل کر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مقبولِ عام سیٹ کام “بلبلے” میں اپنے مشہور کردار “مومو” سے باہر نکلنا چاہتی ہیں، تاہم اس کردار کی غیر معمولی شہرت نے انہیں ایک مخصوص دائرے میں محدود کر دیا ہے۔
حنا دلپذیر نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں متعدد ڈرامہ سیریلز میں مختلف اور چیلنجنگ کردار ادا کیے ہیں، جنہیں ناظرین نے بے حد سراہا۔ ان کے مطابق، بطور اداکارہ وہ ہمیشہ نئے تجربات کرنے اور متنوع کرداروں میں خود کو آزمانے کی خواہش رکھتی ہیں، مگر اس کے باوجود عوام کی بڑی تعداد انہیں صرف “مومو” کے کردار سے ہی پہچانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کردار ان کے لیے باعثِ فخر ضرور ہے، لیکن ایک فنکار کے طور پر وہ اپنی شناخت کو مزید وسیع کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی اداکار کے لیے ایک ہی کردار میں مقید ہو جانا ایک طرح کا چیلنج ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “مومو” ایک مزاحیہ اور منفرد کردار ہے جس نے انہیں بے پناہ شہرت دی، مگر اس کی مقبولیت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ان کے دیگر سنجیدہ اور مختلف نوعیت کے کردار اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اب ایسے پروجیکٹس کا حصہ بننا چاہتی ہیں جو ان کی صلاحیتوں کے دیگر پہلوؤں کو بھی اجاگر کریں۔
حنا دلپذیر نے مزید کہا کہ وہ اپنے کام کے حوالے سے ہمیشہ سنجیدہ اور پرعزم رہی ہیں۔ ان کے مطابق، ایک اداکار کے لیے ضروری ہے کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ خود کو بدلتا رہے اور نئے انداز میں سامنے آئے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ناظرین کی محبت ہی کسی بھی فنکار کی اصل طاقت ہوتی ہے، اور وہ اس محبت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں، چاہے وہ کسی ایک کردار کی وجہ سے ہی کیوں نہ ہو۔
اداکارہ نے اپنے ادبی ذوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں معروف ادیبہ بانو قدسیہ کی تحریریں بے حد پسند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانو قدسیہ کے افکار اور اندازِ تحریر نے انہیں نہ صرف متاثر کیا بلکہ ان کی شخصیت اور سوچ پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ادب انسان کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور ایک اداکار کے لیے بھی مطالعہ نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اپنے کرداروں میں گہرائی اور حقیقت پسندی لا سکے۔
آخر میں حنا دلپذیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں انہیں ایسے کردار ادا کرنے کے مواقع ملیں گے جو ان کی فنی صلاحیتوں کے نئے پہلوؤں کو سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ناظرین کو حیران کرنے اور اپنے کام کے ذریعے ایک نئی پہچان بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔



